سرسی ،23؍ ستمبر (ایس او نیوز) بنگلورو کے پریس کلب میں اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے جنگلاتی زمین حقوق کے لئے جدوجہد کررہی کمیٹی کے ریاستی صدر رویندرا نائک نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت جنگلاتی حقوق قانون کو نافذ کرنے کے سلسلے میں کوئی ٹھوس فیصلہ کرے ۔
انہوں نے کہا کہ اس قانون کا گہرائی سے مطالعہ نہ کرنے اور اس کا فائدہ جنگلاتی زمین پر بسنے والوں کو پہنچانے میں حکومت پوری طرح ناکام ہوئی ہے ، جس کی وجہ سے ان لوگوں کے لئے سکون سے جینا مشکل ہوگیا ہے ۔ اور آنے والے دنوں میں ان کے لئے مزید پریشانیاں کھڑی ہونے کے امکانات ہیں ۔ حکومت کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے ہوراٹا سمیتی نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضیاں (پی آئی ایل) داخل کی ہیں ۔ سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے جولائی 2019 میں کہا کہ آئندہ 18 مہینوں کے اندر جنگلاتی حقوق کی درخواستوں پر دوبارہ غور کیا جائے گا ۔ مہلت کی یہ میعاد امسال جنوری میں ختم ہوچکی ہے ، لیکن تاحال حکومت نے درخواستوں پر غور کرنے کا کام نہیں کیا ہے ۔